لاک ڈاؤن
![]() |
انور نے رکشہ گھر کے سامنے کھڑا کیا اور ڈھیلے ڈھالے قدموں سے گھر میں داخل ہوا۔ اس کی بیوی آصفہ بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی۔ اسے دیکھ کر چونک گئی۔ انور چپ چاپ چلتا ہوا آصفہ کے قریب ہی پڑی چارپائی پر ڈھے سا گیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ آصفہ نے اس کی شکل دیکھی اور پوچھا،
"پانی پیئوں گے؟"
انور نے آنکھیں کھولے بغیر ہاں میں گردن ہلا دی۔ آصفہ جلدی سے اٹھی اور پانی کا گلاس لے کر واپس آئی، گلاس اس کی جانب بڑھایا۔
انور نے ایک ہی سانس میں پانی پی کر گلاس آصفہ کو پکڑایا۔
"اور پانی لاؤں۔"
انور نے نفی میں سر ہلایا اور دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ آصفہ اس کے قریب بیٹھ گئی اور ہولے سے پوچھا،
" آج بھی دیہاڑی نہیں لگی۔"
انور بولا،
"دیہاڑی لگتی تو کیا میں اس وقت گھر پر بیٹھا ہوتا؟"
"ہمم۔۔ خیر پریشان نہ ہو۔ کل دیہاڑی لگ جائے گی۔"
آصفہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
"خاک دیہاڑی لگے گی۔ حکومت نے سب کچھ تو بند کیا ہوا۔ جہاں چار سواریاں رکشے میں آکر بیٹھتی ہیں پولیس والے آجاتے ہیں۔ سواریاں تو اتارتے ہی ہیں ساتھ سو پچاس لے کر جان چھوڑتے ہیں۔"
انور پھٹ پڑا۔
"ساری دنیا کا یہی حال ہے۔ اللہ بہتر کرے گا۔"
آصفہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
"ساری مصیبتیں غریبوں کے لیے ہیں۔ پیسے والوں کا کیا ہے؟ ان کے پاس اتنا پیسہ ہوتا ہے کہ ان کی سات پشتیں آرام سے بیٹھ کر کھا سکتیں ہیں لیکن ہم غریب لوگ کہاں جائیں؟ سر ڈھانپیں تو پیر ننگے ہوتے ہیں، پیر ڈھانپیں تو سر ننگا ہو جاتا۔ مکان کا کرایہ، کھانے پینے کا خرچ، دوا دارو۔۔۔ اس کرونا نے تو بیڑا غرق کر دیا ہے لگتا ہے یہ کرونا اللہ نے بھیجا ہی ہم غریبوں کی جان لینے کے لیے ہے۔"
انور نے جلے بھنے لہجے میں کہا۔
"اچھا! کفر نہ بولو۔ اللہ سے خیر کی دعا مانگو۔ اللہ کی بھیجی آزمائش ہے ثابت قدمی سے اس کا مقابلہ کرو نہ کہ اللہ سے شکوہ شکایت کرتے رہو"
آصفہ نے انور کو ٹوکتے ہوئے کہا اور دوبارہ کپڑے دھونے لگ گئی۔
انور رکشہ چلاتا تھا اور کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ چار بچے تھے۔ دن بھر جو کماتا آصفہ اس میں کچھ نا کچھ پس انداز کر لیتی۔ جب کرونا کی وجہ سے انور گھر بیٹھا تو وہ بچت تیزی سے خرچ ہونے لگی۔ اس ماہ وہ مکان کا کرایہ بھی نہ دے سکے۔ وہ تو شکر تھا کہ مالک مکان خدا ترس انسان تھا، جب کرائے کی ادائیگی نہ ہوسکی تو اس نے انہیں دو مہینوں کا کرایہ اکٹھا دینے کا کہہ دیا۔ انور روز دیہاڑی لگنے کی آس میں رکشہ لے کر نکلتا لیکن مایوس واپس لوٹتا۔ اب اگلے ماہ کا کرایہ سر پر کھڑا تھا۔ دونوں کو یہ فکر دامن گیر تھی کہ دو ماہ کا کرایہ کہاں سے دیں گے؟
آصفہ کپڑے دھو کر فارغ ہوئی تو انور کے قریب بیٹھ گئی۔ وہ پریشان اور شش و پنج کا شکار لگ رہی تھی۔اس نے ڈرتے ڈرتے انور کو آواز دی۔
"ہوں۔۔ کیا ہوا؟"
انور نے کہتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
آصفہ کچھ لمحے خاموشی سے اس کی شکل دیکھتی رہی پھر بولی،
"راشن ختم ہوگیا ہے۔ آج رات تو گزارا ہو جائے گا لیکن۔۔۔ کل کے لیے کچھ نہیں ہے۔"
آصفہ نے ہمت کرکے کہا۔
انور لحظہ بھر کو گم سم سا ہوگیا پھر بولا، "پہلے ہی پرچون والے کا ادھار چڑھا ہوا ہے پتا نہیں وہ اب ادھار دے گا کہ نہیں۔"
"ایک بات کہوں؟"
آصفہ نے متذبذب انداز میں کہا۔
"کہو۔"
"وہ۔۔ وہ شمسہ باجی کہہ رہی تھی وہ جو بڑی سڑک پر شاندار سا مکان نہیں۔۔۔ بڑے نیک لوگ ہیں۔ وہ لوگوں میں راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ تم بھی وہاں سے راشن لے آؤ نا۔"
"آہ۔۔ ہم پر یہ بھی دن آنے تھے۔ اب ہم فقیروں کی طرح صدقہ خیرات لے کر کھائیں گے۔"
انور افسردگی سے بولا۔
"اس دور ابتلاء میں ہم اکیلے تو نہیں ہیں جو راشن لیں گے۔ جو ضرورت مند نہیں تھے انہوں نے بھی مفت کے راشن سے گھر بھر لیا ہے اور ہم تو پھر ضرورت مند ہیں۔"
آصفہ نے رسان سے اسے سمجھایا۔ انور نے سر ہلا دیا۔
"اور پتا شمسہ باجی یہ بھی بتا رہی تھی کہ حکومت نے غریبوں کو بارہ ہزار روپے دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔"
"ہاں مجھے بھی پتا چلا تھا کہ تین ماہ کی اکھٹی رقم بارہ ہزار روپے ملے گی۔ کاش کوئی ہمارے حکمرانوں کو بتائے کہ بارہ ہزار روپے میں گھر کا ایک ماہ کا خرچا بھی پورا نہیں ہوتا۔"
"چلو کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ تم اپنے موبائل سے میسج کر دو۔ کیا پتا پیسے مل جائیں تو مکان کا کرایہ ہی ادا ہو جائے۔"
آصفہ نے آس بھرے لہجے میں کہا۔
"اچھا اب تم راشن لینے جاؤ۔پریشانی میں کچھ آسرا تو ہو۔"
انور ایک آہ بھری اور یہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
"مزدوری کرنے والوں پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ وہ فقیروں کی طرح لوگوں کے در پر مانگنے جائیں گے۔"
مکان تک پہنچا تو دیکھا راشن لینے کے لیے عورتوں اور مردوں کا جم غفیر جمع ہے اور راشن لینے کے لیے دھکم پیل ہو رہی۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے جو لوگوں کو روزی روٹی کمانے سے تو منع کرتا ہے لیکن فقیروں کی طرح راشن لینے کے لیے اکھٹے ہونے اجازت دیتا ہے؟

0 تبصرے