1
رات تاریک تھی۔ ہر طرف سناٹے اور کہرے کی حکمرانی تھی۔کہیں کہیں ستارے مانند درخشاں اپنی جھلک دکھا رہے تھے۔ ایک سیاہ پوش اپنے کاندھے پر بوری اٹھائے چلا جا رہا تھا۔ وہ بار بار کہرے کی وجہ سے دھندلا جانے والے چشمے کو صاف کر رہا تھا۔ آخر اس نے ویران اور جھاڑ جھنکار سے بھرے ہوئے قطعہ کو منتخب کیا اور گڑھا کھودنے لگا۔۔۔
گڑھا کھود کر اس نے بوری کو گڑھے میں پھینکا اور واپس پلٹا۔۔۔ اچانک استخوانی ہاتھوں نے اسے جکڑ لیا۔۔۔ دہشت نے اس کی سانس روک دی۔
۔۔۔۔۔۔۔
دور کہیں ہابیل کو قابیل سے لڑوانے والا اپنے افضل ہونے
پر نازاں تھا۔
2
ارے بیگم..۔!!! تمہیں بھلا کیا ضرورت ہے ان مصنوعی حسن زیبائش کی۔۔۔؟
اس نے بیوی کو آئینے میں سنگھار کرتے دیکھا تو کہنے لگا،
ذرا دیکھو تو! سنہری رو پہلی، گوٹے کناری کے زرتاب دوپٹے کے ہالے میں تمہارا چہرہ یوں چمک رہا ہے کہ اس کے سامنے گوہرتاب کی روشنی بھی ماند ہے۔ اللہ۔۔۔ اللہ... کتنی خوبصورت ہو تم۔۔۔ ارے میری بیگم نے تو چندے آفتاب چندے مہتاب سا حسن پایا ہے۔
وہ اپنی تعریف پہ شرما کے بولی، "سرتاج آپ جیسا وجیہہ انسان کسی عالم تاب سے کم ہے کیا، میرا حسن تو آپ کی محبت میں کھل اٹھا ہے۔
3
"معمولی ان بن پر شقی القلب چچا نے سات سالہ بھتیجے کو قتل کرکے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔"
زور شور سے بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ وہ تاسف سے سر ہلاتے ہوئے اپنی دوست سے کہہ رہی تھی،
"چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل۔۔۔۔ انسانیت۔۔۔ احساس۔۔۔ مروت کی موت واقع ہو چکی ہے۔ خدا خوفی ختم ہوگئی ہے۔۔۔۔ توبہ۔۔۔۔ مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے۔"
جوس کا گلاس پکڑاتے ہوئے گھر میں کام کرنے والی بچی کو ٹھوکر لگی۔۔۔۔۔ اور چھناکے سے گلاس ٹوٹ گیا۔ وہ آگ بگولہ ہو کر اٹھی اور بچی کو لاتوں گھونسوں پر رکھ لیا۔
4
اسے ہمیشہ بیگم صاحبہ پر رشک آتا۔ وہ سوچتی
"مولا کی شان نرالی۔۔۔ نام میرا رانی ہے اور نصیبہ بیگم صاحبہ کا۔ ایک میں ہوں۔۔ گھر گھر کام کرکے چار پیسے بھی کماتی ہوں اور شوہر کی مار بھی سہتی ہوں۔ اصل رانی تو بیگم صاحبہ ہیں۔ نہ کام کاج کی فکر نہ شوہر کا ڈر۔۔ عیش۔۔ سکون کی زندگی۔
صاحب اندر آئے۔ بیگم صاحبہ انھیں چائے دی۔ صاحب نے کپ منہ سے لگایا اور دوسرے ہی لمحے بیگم صاحبہ پر پھینک کر دھارے۔۔۔
"یہ چائے ہے؟"
وہ ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔ سچ ہے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔
.jpeg)
0 تبصرے