چاروں جانب اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ لیکن وہ تاروں کی مدھم روشنی میں ہانپتا کانپتا اپنی جان بچانے کی خاطر کچی پگڈنڈی پر دوڑتا جا رہا تھا۔ اس کے پیچھے چودھری کے گرگے لگے ہوئے تھے۔ کچھ دیر آنکھ مچولی کے بعد جب ان کے درمیان فاصلہ بڑھا تو وہ ایک کھیت میں گھس کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد چودھری کے گرگے بھی اس کھیت تک آن پہنچے۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں ٹارچ تھی اور وہ اس ٹارچ کو ادھر اُدھر گھما رہا تھا۔ جب ٹارچ کی روشنی اس کی جانب بڑھی تو وہ مذید دبک گیا۔ آنے والے پگڈنڈی پر پھیل گئے۔ ان میں سے ایک بولا،

"لگتا ہے وہ بچ کر نکل گیا ہے۔"

ٹارچ والا ڈپٹ کر بولا،

"ایسے کیسے بچ کر نکل گیا؟ ہم اس کے پیچھے ہی تھے۔ ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر یہی کہیں چھپا بیٹھا ہوگا۔ دھیان سے دیکھو۔"

"استاد مین سڑک قریب ہی ہے۔ ہوسکتا ہے اس نے موبائل پر فون کرکے کسی کو بلا لیا ہو اور اب وہ شہر کی طرف جا رہا ہو۔"

ٹارچ والا سوچنے لگا پھر بولا،

"ہمم۔۔۔ ہاں ایسا ہو تو سکتا ہے۔"

قدرے توقف کے بعد بولا،

"چلو! ذرا مین سڑک تک جا کر دیکھتے ہیں۔"

وہ چاروں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے سڑک کی جانب چل دیئے۔ اس نے کچھ دیر ان کے دور جانے کا انتظار کیا۔ جب ان کے ہیولے نظر آنا بند ہو گئے تو وہ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے باہر نکل آیا۔ اب مین سڑک کی طرف جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس نے اپنا رخ گاؤں کی جانب کیا اور تیزی سے قدم اٹھانے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ملک بھر میں الیکشن کا موسم چھایا ہوا تھا۔ کیا بچے کیا بوڑھے۔۔۔ سب ہی الیکشن کے بخار میں مبتلا تھے اور اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈے اٹھائے اس کے لیے کٹ مرنے کو تیار بیٹھے تھے۔

اشعر کا تعلق ملک ایک ایک جانے پہچانے میڈیا ہاؤس سے تھا۔ آج کل اس کی ذمہ داری جلسوں کی رپورٹنگ کرنا تھی۔ وہ اسی سلسلے میں شہر شہر گاؤں گاؤں محو سفر تھا۔ یہ کام اس کے لیے نہایت کوفت اور ملال کا باعث بن رہا تھا۔ ہر جلسے کا آغاز دوسری جماعتوں پر تنقید سے شروع ہوتا، ہوتے ہوتے وہ دشنام طرازی پر اتر آتے اور آخر میں اپنی جماعت اور اپنی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے عوام سے ملک بھر میں دودھ کی نہریں بہانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان سے ووٹ دینے کی اپیل کرتے۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ سیاستدان حال ہی میں سیاست کے میدان میں وارد ہوئے تھے بلکہ ان میں سے تو کئی ایسے تھے جو پشت ہا پشت سے کارزار سیاست کے شہسوار تھے۔ نہ سیاستدان نئے تھے نہ ان کے وعدے وعید۔۔۔۔ نہ وہ بدلے نہ عوام کی حالت۔۔۔ سو وہ افسردگی سے انھیں آوے ای آوے کے نعرے بلند کرتا ہو دیکھتا اور کف افسوس ملتا۔ اشعر کا جی کرتا کہ انھیں روک دے۔۔۔ ٹوک دے۔۔۔ انھیں ان کی چکنی چپڑی باتوں کی حقیقت دکھائے۔۔۔ لیکن دل مسوس کرکے چپ کا چپ ہی رہ جاتا اور دل ہی دل میں ان کی کمزور یاداشت کا ماتم کرتے ہوئے اپنے کام میں مصروف ہو جاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرصت کے لمحات میں دوستوں کے ساتھ اس کی بحث کا رخ سیاست کی جانب مڑ جاتا۔ ایک کہتا،

"یار! ہماری عوام میں اجتماعی شعور کب بیدار ہوگا؟ کب تک ہم ذات، برادری، شخصیت پرستی کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے رہے گے؟"

اس کا دوسرا دوست تاسف سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہتا،

"کبھی نہیں۔ ہمارے اندر کبھی بھی اجتماعی شعور بیدار نہیں ہوسکتا۔ ہمارے دماغ زنگ آلود ہیں۔ جن لوگوں میں اپنی ذات اور مفاد سے آگے بڑھ کر سوچنے کی ہمت نہیں ان میں شعور بیدار ہونا بہت مشکل امر ہے۔"

تیسرا کہتا،

"یاروں! ایک ان پڑھ بندے کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں ہے لیکن ایک پڑھا لکھا شخص محض شخصیت پرستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک کرپٹ اور نااہل فرد کو اپنی نمائیندگی کا حق کیسے دے دیتا ہے؟"

چوتھا کہتا،

"یاروں ڈگری حاصل کرنے سے شعور حاصل نہیں ہوتا۔ آزادی کے ستر بہتر سال گزر جانے کے باوجود ہم انگریزوں کا نافذ کردہ نصاب پڑھ رہے ہیں۔ سابقہ آقاؤں کا نصاب۔۔۔ تو ہم عوام سے غلامی کے علاوہ اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔"

کوئی کہتا،

" نہیں یار! ہم بھیڑ چال کے عادی لوگ ہیں۔ جس رستے دوسرے چلتے ہیں ہم آنکھیں بند کئے اس کے پیچھے چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے ذہن سے سوچتے ہیں، دوسروں کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دوسروں کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرتے ہیں۔ ہم جسمانی طور پر تو آزاد ہیں لیکن ذہنی طور پر غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔"

اشعر ایک لمبی آہ بھرتا اور کہتا،

"درست کہہ رہے، ہم جانتے بوجھتے بچہ جمورا کی مانند ان مداریوں کی ڈگڈگی پر ناچ رہے ہیں۔ اگرچہ طاقت پرواز رکھتے ہیں لیکن لیکن ذاتی مفادات نے ہمارے پر قینچ کر دیئے ہیں سو ہم اڑنے کی بجائے رینگنا پسند کرتے ہیں۔"

ہر مرتبہ ان کی بحث کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو جاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جلسوں کی رپورٹنگ کے دوران ہی اس کے چینل نے اسے چودھری ایاز کے جلسے کی کوریج کی ذمہ داری سونپی۔ چودھری ایاز نہ صرف پچھلی حکومت کا سٹنگ ایم این اے تھا بلکہ حکومت کا منسٹر بھی تھا اور چند روز قبل تک پچھلی حکومتی پارٹی کا ہی دم بھرتا تھا۔ وہ ایک بدعنوان اور اثررسوخ رکھنے والا سیاستدان تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جس کا دشمن بن جائے اس کی زندگی کی شمع بجھ جاتی ہے۔ پھر اچانک خبر آئی کہ اس نے نئی ابھرتی ہوئی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے اور اسی سلسلے میں جلسے کا انعقاد کیا تھا۔

اشعر آج صبح ہی چودھری ایاز کے گاؤں میں پہنچا تھا۔ جلسے کا انعقاد حویلی کے نزدیک ہی ایک وسیع و عریض میدان میں کیا گیا تھا۔ ایک جانب حاظرین کے لیے کھانے پینے کا انتظام کیا جارہا تھا۔ پورے گاؤں میں خوب چہل پہل تھی۔ڈھولچی ڈھول بجاتے پورے گاؤں میں گھومتے ہوئے لوگوں کو جلسے میں شامل ہونے کا کہہ رہے تھے۔ غرض گاؤں میں ایک میلے کا سا سماں تھا۔ جلسہ شام کو ہونا تھا اس لیے وہ گاؤں میں گھوم پھر کر لوگوں سے بات چیت کر رہا تھا۔ کچھ لوگ پارٹی بدلنے پر چودھری ایاز سے خفا لگ رہے تھے۔ اشعر نے ان سے پوچھا،

تو کیا اب آپ چودھری ایاز کو ووٹ نہیں دے گے؟"

ان میں سے اکثریت کا جواب تھا،

"اگر ان کی برداری کے سربراہ نے چودھری ایاز کو ووٹ دینے کا وعدہ کر لیا تو انھیں بھی اسی کو ووٹ دینا پڑے گا۔"

"لیکن کیا یہ غلط نہ ہوگا؟ ووٹ آپ کا ہے تو مرضی بھی آپ کی ہونی چاہیے۔"

"آپ ٹھیک کہہ رہے ہے سر جی۔ لیکن ہم اگر برداری کا حکم نہیں مانیں گے تو ہمارا حقہ پانی بند ہوجائے گا۔ ہمارے لیے زندگی بسر کرنا مشکل ہوجائے گی۔"

اسی طرح کی باتیں کرتے اور سنتے شام ہوگئی۔ وہ قدم اٹھاتا جلسہ گاہ کی جانب بڑھ گیا۔ صحافیوں کے بیٹھنے کے لیے الگ سے انتظام کیا گیا تھا۔ اپنی مخصوص جگہ پہنچ کر وہ بیٹھ گیا اور اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے دوستوں سے علیک سلیک کی۔

شام ڈھلے جلسے کا آغاز ہوا۔ اسٹیج پر چودھری ایاز کے ہمراہ علاقے کے سرکردہ افراد موجود تھے۔اسٹیج کے سامنے بچھی کرسیوں پر اخباری نمائندے اور دیگر علاقہ معززین شامل تھے۔ کرسیوں کے پیچھے بائیں جانب زمین پر بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی تھی، جن پر مزارعین اور گاؤں کی عورتیں اور بچے بیٹھے تھے۔ وہ پورے جوش و خروش سے چودھری ایاز کے حق میں نعرے بلند کر رہے تھے۔

روایتی انداز میں جلسے کا آغاز کیا گیا۔ جلد ہی چودھری ایاز نے مائک سنبھال لیا اور کہنے لگا،

"میرے پیارے دوستوں! آپ مجھ سے اچھی طرح واقف ہے۔ میں نے پچھلے پاچ سال آپ کی خدمت کی ہے۔ علاقے میں ترقی کے لیے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔۔۔ اشعر کی آنکھوں کے سامنے گاؤں کا نقشہ گھوم گیا۔۔۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور کچی پکی گلیاں۔ جگہ جگہ کھڈے۔۔۔ گزرتے ہوئے انسان کے انجر پنجر ڈھیلے ہوجاتے تھے۔۔ ہننہہہ ترقی ایسی ہوتی ہے۔۔۔۔

"چوہدری ایاز زندہ باد"

لوگوں نے زور شور سے نعرہ لگایا تو اشعر چونک سا گیا اور دوبارہ چودھری ایاز کی جانب متوجہ ہوگیا۔ وہ دونوں بازو بلند کئے لوگوں کو خاموش ہونے کا کہہ رہا تھا۔ لوگ خاموش ہوئے تو اس نے بولنا شروع کیا،

"آپ کو تو علم ہی ہے کہ میں نے پورے علاقے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے سکول کھلوائے ہیں۔ دوبارہ اقتدار میں آکر اس علاقے میں کالج اور یونیورسٹی قائم کروں گا۔۔۔۔۔"

اشعر کی نگاہوں کے سامنے آج دیکھے گئے اسکولوں کا نقشہ گھوم گیا۔ لڑکیوں کے اسکول میں گائیں بھینسیں بندھی تھیں اور لڑکوں کے اسکول کی صرف چار دیواری کھڑی تھی۔ یہ تھی علاقے میں اسکول کھلوانے کی داستان۔۔۔۔ اشعر کے سینے میں غم و غصے کا دھواں بھرنا شروع ہوگیا۔۔۔۔

لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ اشعر کو لوگوں کا شور شرابہ دیکھ کر مداری یاد آگیا۔ جب وہ ڈگڈگی بجا کر اپنے آنے کا اعلان کرتا تھا تو بچوں کو جوش و خروش بھی کچھ ایسا ہی ہوتا تھا۔ بچے مداری کے ہر تماشے پر تالیاں بجا کر داد دیتے تھے۔ بالکل اسی طرح لوگ چودھری ایاز کی ہر بات پر زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ کیا یہ لوگ اندھے ہیں؟ انھیں شعور نہیں۔۔۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ چودھری ایاز نے اپنی تقریر ختم کی اور لوگوں کو کھانا کھا کر گھر جانے کی تلقین کی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی لوگوں نے ایک نئے جوش کے ساتھ اپنا رخ کھانے کے لیے نصب شامیانے کی جانب کر لیا اور ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوگیا۔۔۔ اشعر جلتا کڑھتا سوچ رہا تھا کہ لوگوں نے صرف کھانے کے لیے چودھری کی ہر بات کی تائید کی ہے؟ ان کے کھانے کا انتظام حویلی کے لان میں کیا گیا تھا۔

اشعر جلتا کڑھتا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حویلی کی طرف چل دیا۔

کھانے کے دوران صحافیوں نے چودھری ایاز پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ وہ ہنستا مسکراتا جوابات دیتا رہا۔ اشعر نے پوچھا،

"لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے اپنی بدعنوانی چھپانے کے لیے اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق اس پارٹی کے حکومت میں آنے کا امکان ہے۔"

چودھری ایاز نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،

"ابھی سے یہ کہنا کہ ہماری پارٹی حکومت بنائے گی قبل از وقت ہے۔ اور جہاں تک بات ہے بدعنوانی کی تو آپ ثابت کردیں۔"

"آپ کا مطلب ہے کہ آپ کے ہاتھ صاف ہیں؟"

اشعر نے اگلا سوال کیا۔ اس پر چودھری کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا اور اس نے غور سے اشعر کو گھورتے ہوئے کہا،

"آپ میرے مخالفین کی زبان بول رہے ہیں۔ وہی میرے خلاف اس قسم کا پروپگینڈا کرتے رہتے ہیں۔"

"ثبوت بھی ہیں۔"

"تو ثابت کیجئے۔"

چودھری ایاز یہ کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ وہ کھانا چھوڑ کر واپس جانے کے لیے حویلی سے باہر نکل آیا۔ چودھری ایاز کے اشارے پر اس کے گرگے اس کے پیچھے چل پڑے۔ ابھی وہ اپنی گاڑی تک نہیں پہنچا تھا کہ چودھری کے گرگوں نے اسے جا لیا اور اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ اشعر اپنی جان بچا کر ایک طرف بھاگا۔ بھاگتے بھاگتے وہ ایک کھیت میں گھس کر بیٹھ گیا۔ جب چودھری کے گرگے اس کی تلاش میں آگے بڑھ گئے وہ واپس پلٹا۔ اس نے فون کرکے جلسے میں شریک دوست کو ساری صورتحال سے آگاہ کرکے مدد کی درخواست کی۔ پھر وہ اپنے دوست کی گاڑی میں چھپ کر اپنی جان بچا کر واپس شہر پہنچا۔ چودھری ایاز نے شہر میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔ آخر اس وعدے پر اس کی جان بخشی ہوئی کہ وہ اپنی زبان بند رکھے گا۔ اپنی جان کی امان کے لیے اس نے اپنی سوچ کو چودھری ایاز کی سوچ کے تابع کر دیا اور بچہ جمورا کا کردار ادا 

کرنے لگا۔


(ایڈونچر ڈائجسٹ میں شائع شدہ)