اس کا چہرہ شکنوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ یک ٹک کچھ فاصلہ پر موجود باپ بیٹے کی اٹھکیلیاں دیکھ رہا تھا۔ یک دم اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ کی روشنی چمکی لیکن دوسرے ہی لمحے مسکراتی جوت بجھ گئی۔ میں کچھ فاصلہ پر بیٹھا ان جلتی بجھتی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے نگاہیں پھیریں اور گہری سوچ میں گم ہوگیا۔ جھریوں بھرا چہرا کسی وقت مسکرا اٹھتا اور کبھی ماتھے پر شکنوں کا جال سا بن جاتا۔ میں اس دھوپ چھاؤں جیسے منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ دھوپ تیز ہونے پر وہ بوڑھا اٹھا کھڑا ہوا اور آہستگی سے چلتا ہوا پارک سے باہر نکل گیا۔
میں وہیں بیٹھا اس بوڑھے کے بارے میں سوچتا رہا۔ میں اس کالونی کا کافی پرانا مکین تھا۔ جب میں یہاں آیا تھا، تب یہ کالونی زیادہ آباد نہیں تھی، اب تو مکانوں کا جنگل اگ آیا تھا۔ یہ پارک کالونی کے گھروں کے نزدیک ہی تھا، اس لیے یہاں صبح و شام بچوں اور بڑوں کی چہل پہل رہتی تھی۔ صبح کی سیر کے شوقین باقاعدگی سے سیر کے لیے آتے تھے۔ میں بھی فرصت کے اوقات میں پارک آکر بیٹھ جاتا تھا۔ بہت سے لوگ میرے شناسا تھا۔ یہ بوڑھا گزشتہ چند دنوں سے پارک آرہا تھا۔ اس کے چہرے کی ایک ایک شکن میں دکھ و کرب رچا محسوس ہوتا تھا۔ میں اس کے دکھ کا سبب جاننا چاہتا تھا۔ میں نے دوستی کی غرض سے بوڑھے کے آس پاس رہنا شروع کر دیا۔ اس کی نظر جب بھی مجھ پر پڑتی وہ دوستانہ انداز میں مسکرا دیتا۔ ہماری شناسائی بڑھنے لگی۔
ایک دن وہ پارک میں نظر نہیں آیا اور جب میں مایوس ہوکر اٹھنے ہی والا تھا کہ وہ آتا دکھائی دیا۔ وہ آ کر میرے قریب ہی بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ رنج و غم کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ بیٹھا پرندوں کو دانہ چگتا دیکھتا رہا۔ مجھے اپنی طرف متوجہ پاکر وہ ہولے سے مسکرایا اور کہا،
"تمہارا کوئی سنگی ساتھی نہیں؟"
میں نے نفی میں سر ہلایا دیا۔
"اچھا! مجھ سے دوستی کروں گے؟"
اس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام کر اس دوستی پر مہر ثبت کردی۔ پرندوں کے شور پر وہ ان کی جانب متوجہ ہوا۔ ایک چڑیا اپنے بچے کو دانہ کھلا رہی تھی۔ وہ جاتی تو اس کی جگہ چڑا آ جاتا۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ کہنے لگا،"انسانوں اور پرندوں میں کتنی مماثلت ہے۔ ہم انسان بھی تنکا تنکا جوڑ کر آشیانہ بناتے ہیں۔ اپنے بچوں کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، لیکن جس طرح بال و پر نکل آنے پر پرندوں کے بچے اپنا آشیانہ چھوڑ کر نئی منزلوں کی جانب پرواز کر جاتے ہیں، بالکل اسی طرح ہمارے بچے بھی نئے راستوں کے ہمراہی بن جاتے ہیں۔" اس کی آنکھوں سے جھانکتا کرب اس کے دکھ کا غماز تھا۔ میں نے تسلی دینے کے لیے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔ وہ مسکرا دیا۔ وہ قریب ہی کھیلتے بچوں کی جانب متوجہ ہوگیا۔ بچوں کی شرارتیں دیکھ کر وہ مسکرا اٹھا۔ کچھ لمحوں کے لیےچہرے کا ملال دھل گیا۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا،
"بچے اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہیں"
میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بولا،
"تم نے کبھی کوزہ گر کو دیکھا ہے۔ وہ کتنی توجہ اور محنت سے برتن بناتا ہے۔ پہلے مٹی کو گوندھتا ہے۔ پھر اس گوندھی مٹی کے ڈھیلے کو چاک پر رکھ کر اپنی انگلیوں کی پیار بھری حدت، نرمی اور توجہ سے برتن میں ڈھال دیتا ہے۔"
میں سر ہلاتے ہوئے اس کی باتیں سن رہا تھا۔
"کچھ ایسا ہی معاملہ بچوں کی تربیت کا ہے۔ بچے بھی مٹی کے ڈھیلے کی مانند ہیں۔ انہیں محبت و شفقت کے پانی سے گوندھا جاتا ہے، انہیں دھیان و توجہ کی حرارت میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ لیکن۔۔۔۔ " اس نے لمحہ بھر توقف کیا،
"ہم انہیں سہولیات و آسائشات مہیا کرنے کے چکر میں توجہ دینا بھول جاتے ہیں۔ نتیجتاً جب ہمیں بچوں کی توجہ اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہم سے بیگانے ہو جاتے ہیں۔"
میں نے افسوس سے سر ہلایا اور اس کی شکل دیکھی۔ "لیکن ہم محنت کس لیے کرتے ہیں؟ ان کے لیے نا۔۔۔ محنت نہ کریں تو ان کی ضروریات کیسے پوری ہوں؟"
وہ دکھی لہجے میں کہہ رہا تھا،
"لیکن شاید ہماری ہی کوتاہی ہے۔ باپ دس بچوں کی ذمہ داری اٹھا لیتا ہے لیکن اولاد سے والدین نہیں پالے جاتے؟۔"
میں نے تسلی دینے کے لیے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔ وہ ہولے سے مسکرایا اور جواباً میرا ہاتھ تھپتھپایا،
"تمہیں علم ہے اکیلے رہنا کیسا لگتا ہے؟ تمہیں کیسے پتا ہو گا! بیوی کے مرنے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ میں بھی مر گیا ہوں۔ اپنے کمرے میں سارا دن اکیلا بیٹھا رہتا تھا۔ بیٹے، بہوویں ، پوتے پوتیاں سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ پھر میرا بیٹا مجھے اولڈ ہوم چھوڑ آیا۔" اس کی آواز بھرا گئی۔ لمحہ بھر کے توقف کے بعد گویا ہوا،
"میرا بیٹا کہتا تھا کہ ہم اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور آپ اکیلے بیمار کمرے میں پڑے رہتے ہیں۔ آپ کو دیکھ بال کی ضرورت ہے۔ اولڈ ہوم میں آپ کی عمر کے بہت سے لوگ ہوں گے۔ آپ کا دل لگا رہے گا اور آپ کی دیکھ بال بھی ہوگی۔"
وہ پھر چپ ہوگیا،
"وہ سچ کہتا تھا۔ میں اولڈ ہوم میں بہت خوش ہوں۔ وہاں میری اچھی دیکھ بال ہوتی ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں یار گھر بہت یاد آتا ہے۔ بیٹا، پوتے پوتیاں۔ لیکن ان کے پاس وقت ہی نہیں۔"
وہ یاسیت سے ہنسا۔
"میں گھر اپنے پوتے کی شادی میں آیا تھا۔ آج واپس جا رہا ہوں۔ اگر کبھی دوبارہ آیا تو ملاقات ہوگی۔ تم اپنا خیال رکھنا۔"
اس نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ میں نے افسردگی سے ہلکا سا بھونک کر اسے خداحافظ کہا اور سوچنے لگا، "یہ خسارہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے یا مادیت پرستی کا انجام۔"