میرے سفید کپڑوں پر خون کے چھینٹے تھے اور ہاتھ میں ہتھکڑی لگی تھی ۔ پولیس والے مجھے دھکیلتے ہوئے پولیس کی وین تک لائے۔ اردگرد کھڑے افراد حیرت زدہ آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ مجھے اس حال میں دیکھ کر لوگوں کی نگاہوں میں بہت سے سوالات تھے۔ وہ چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ وین کے قریب پہنچ کر پولیس والے نے مجھے دھکہ دے کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی۔ میں لڑکھڑایا اور پھر سنبھل کر ہتھکڑی لگے ہاتھوں سے دروازے پر لگے ہینڈل کا سہارا لیا اور اچک کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ تین پولیس والے میرے ساتھ بیٹھ گئے اور باقی وین کے اگلے حصے میں بیٹھ گئے۔ وین پولیس اسٹیشن کی جانب روانہ ہو گئی۔
میں سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا لیکن میرے اندر ایک طوفان کروٹ لے رہا تھا۔ افسوس، تاسف اور شاید پچھتاوا۔۔۔ اتنا عرصہ صبر کا دامن تھامے رکھنے کے بعد میں یوں آپے سے باہر ہو جاؤں گا۔۔۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ لیکن۔ میں بھی کیا کرتا۔۔۔ کب تک صبر و تحمل کا دامن تھامے بیٹھے رہتا۔ یہ برسوں کا دبا ہوا لاوا تھا جو آج یوں بہہ نکلا تھا۔
![]() |
| Image by pixel |
یہ دنیا بھی عجیب گورکھ دھندہ ہے۔ لوگوں کو کسی کی اچھائی یا برائی سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ ان کی اچھائی برائی کے پیمانے ان کے مفاد و غرض سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایک مجرم اگر ان کی ضرورت پوری کر سکتا ہے تو وہ نیک اور ہمدرد کہلائے گا۔
میرا تعلق ایک ایسے محکمے سے تھا جو اوپر کی آمدنی کی وجہ سے مشہور تھا۔ روپے پیسے کی ریل پیل تھی۔ لوگ جھک جھک کر سلام کرتے۔ آگے پیچھے پھرتے۔ جناب۔۔ صاحب۔۔ سر جی۔۔۔ کے نام سے مخاطب کرتے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ میں کیا کرتا ہوں اور کیسے کماتا ہوں۔ لیکن پھر گردش دوراں کا پہیہ گھوما۔ میں ایک انکوائری میں پھنس گیا۔ مجھ پر جرم ثابت ہوگیا،نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے اور ایک بھاری رقم جرمانے کے طور پر دینی پڑی اور اس کے ساتھ چھ ماہ کی سزا بھی سنائی گئی۔
سزا بھگت کر باہر آیا تو زمان و مکان کو بدلا ہوا پایا۔ حرام مال حرام رستے خرچ ہو چکا تھا۔ لے دے کے ایک مکان تھا۔ زندگی گزارنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا تو لازمی تھا۔ میں نے کوشش کی کہیں نوکری مل جائے۔ لیکن کوئی بھی کمپنی ایک بےایمان، سزا یافتہ شخص کو رکھنے پر آمادہ نہیں تھی۔ میرا دل چاہتا تھا کہ ان سے پوچھوں کہ اپنے کئے کی سزا تو میں بھگت آیا تھا اب مجھے کسی بات کی سزا دی جارہی ہے؟ لیکن یہ بات میں سوچ سکتا تھا کہنا بہت مشکل تھا ۔ میں روز بےنیل و مرام گھر لوٹ آتا۔ گھر آتا تو بیوی بچوں کی سوالیہ نگاہیں چھبنے لگتی۔
سزا یافتہ ہونے سے پہلے میرے دوست احباب کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ وہ اکثر مجھے اپنے کاروبار میں شراکت پر آمادہ کرتے تھے۔ سوچا کہ مکان بیچ باچ کر کسی کے ساتھ کاروباری شراکت کر لوں۔ میں ان سے جا کر ملا۔ اکثریت تو کنی کترا گئی۔ کچھ نے ٹال دیا۔ وہی لوگ جو جھک جھک کر ملتے تھے وہ آنکھیں ملانے کے روادار نہیں تھے۔ ان کی آنکھوں سے تمسخر جھلکتا تھا۔ سزا یافتہ ہونا ایک بار پھر آڑے آ گیا۔ زمینی خداؤں کے نزدیک میری توبہ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
ایک دن میرا بیٹا اسکول سے آیا تو وہ رو رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ اسکول میں سب اسے چور کا بیٹا کہتے ہیں ۔ میں اگلے دن شکایت لے کر اسکول گیا تو پرنسپل نے کہا،
“ہم خود اس صورتحال سے پریشان ہیں اور سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ آپ کے بچے کو اسکول سے خارج کر دیا جائے۔ اس کی وجہ سے والدین اعتراض کر رہے ہیں کہ ان کے بچوں پر برا اثر پر رہا ہے۔ "
“ لیکن پرنسپل صاحب! میرے جرم کی سزا میرے بچے کو کیوں دی جارہی ہے۔ میں نے جرم کیا تھا تو میں نے اس کی سزا بھی بھگت لی ہے۔یہ معاشرہ مجھے معاف کیوں نہیں کرتا۔ مجھ پر مجرم کا ٹھپا کیوں لگا دیا گیا ہے؟ "
پرنسپل کے پاس میرے سوالوں کا ایک ہی جواب تھا کہ ہمیں اسکول کے سب بچوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میں مایوس ہو کر اسکول سے نکل آیا۔
اسکول سے گھر تک کا سفر بہت مشکل سے طے ہوا۔ میرا ذہن منفی سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ بیٹے کا ہاتھ نہ پکڑا ہوتا تو شاید میں کسی بس یا ٹرک کے آگے لیٹ جاتا۔ توبہ کرنے پر تو اللہ بھی معاف کر دیتا ہے۔۔۔ لیکن یہ معاشرہ۔۔۔ یہ تو جرم بےگناہی کی بھی سزا دیتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھ چلتے بیٹے کو دیکھ کر سوچا۔
اس ساری صورتحال کے ساتھ اب یہاں رہنا بہت مشکل امر تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ہم یہ ملک چھوڑ دیں گے۔میں نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا۔ وہ بھی دوست احباب کی کڑوی کسیلی برداشت کرنے پر مجبور تھی۔ سو اس نے میرے فیصلے پر صاد کیا۔
جلد ہی ہم نے مکان بیچا اور ملک کو چھوڑ دیا۔ نئی جگہ اور نئے لوگ ۔ یہاں پر کوئی مجھے مجرم کی حیثیت سے نہیں جانتا تھا۔ ہم نے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کی۔ پرانا وقت بھلا دیا۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ بچے جوان ہوگئے۔ سوچا کہ ان کے رشتے اپنوں میں جا کر طے کریں۔ سو واپس وطن کی راہ لی۔
میں ایک بار پھر خوشحال تھا۔ میرے پاس روپیہ پیسہ تھا اور اس کے ساتھ ساتھ باہر کی نیشنلٹی بھی۔ ہمیں یہاں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ وہ سب دوست احباب جنہوں نے آنکھیں پھیر لیں تھیں آج پھر میرے اردگرد تھے۔ مجھے ان کی آمد نے جہاں خوش کیا وہیں میرے دل میں ایک کانٹا بھی چھبا کہ نیک نامی کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ آپ کے پاس روپیہ پیسہ اور عہدہ ہو۔ یہ چیزیں آپ کے پاس نہیں تو آپ نیک نام بھی نہیں۔ جانے کب تک ہمارا معاشرہ ظاہری حلیے پر اچھائی و برائی کے سرٹیفکیٹ بانٹتا رہے گا۔ آج میں نیک، ایماندار اور دین دار تھا۔ کیونکہ میں پنج وقت کی نماز پڑھتا تھا۔
ان کو جب علم ہوا کہ میں بچوں کی شادی کے ارادے سے آیا ہوں تو میری آؤ بھگت میں اضافہ ہوگیا۔
بیٹی کے لیے ایک رشتہ ہمیں بہت اچھا لگا۔ میں لڑکے کے بارے میں پوچھ گچھ کر نے ہی نکلا ہوا تھا۔ سوچا ان کا گھر نزدیک ہے تو کیوں نہ ان کے گھر سے بھی ہو آؤں۔ گھر پہنچا تو مین گیٹ کھولا تھا۔ میں نے بیل کی۔ لیکن شاید خراب تھی یا لائیٹ نہیں تھی کوئی دروازے پر نہ آیا۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا اور پھر اندر داخل ہوگیا۔ کمرے کے نزدیک پہنچا تو کچھ آوازیں آرہی تھیں۔ اپنا نام سن کر میرا دستک دینے والا ہاتھ رک گیا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اگر وہ داماد کو ساتھ نہ لے کر گئے تو۔۔۔
“تو کیا۔۔۔ ہم اس راشی مجرم کی بیٹی کو بھی واپس بھجوا دیں گے۔ ہمیں بھلا کیا ضرورت پڑی ہےاس مجرم کی بیٹی کو اپنی بہو بنانے کی۔ہم تو اس سے ٹکا کر جہیز بھی لیں گے اور بیٹے کو بھی باہر بھجوائیں گے۔ "
ایک قہقہ بلند ہوا۔ آج مجھے اندازہ ہوا کہ لوگوں کی یاداشت اپنا مفاد اور روپیہ پیسہ دیکھ کر کھو جاتی ہے ۔اشتعال کی ایک لہر نے میرا گھراؤ کر لیا۔ میں دروازہ کھول کر اندر گیا اور لڑکے کے باپ کو مکا مارا۔ کچھ لمحے تو وہ ساکت بیٹھا رہا پھر وہ اور اس کے ساتھی اٹھے اور میرے ساتھ لڑنا شروع کر دیا۔ لڑتے ہوئے میرے ہاتھ میں گلدان آ گیا اور میں نے اسے لڑکے کے باپ کے سر پر دے مارا۔وہ تیورا کر گرا۔ اس کے سر سے خون کا فوارہ نکلا اور میرے کپڑوں کو داغدار کر گیا۔ کسی نے پولیس کو بلا لیا ۔ وقت ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہا تھا۔میں پولیس کے ساتھ اپنے کئے کی سزا بھگتنے جا رہا تھا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اپنے کئے کی سزا پانے کے بعد یہ معاشرہ توبہ کرنے والے انسان کو جینے کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟
(شائع شدہ آن لائن صریر سخن انٹرنیشنل)

0 تبصرے