وہ گہری سوچ میں ڈوبی اپنے بال سنوار رہی تھی۔ اس کے چہرے اور اس کی نگاہوں سے بے چینی عیاں تھی۔ اس نے بال سنوارنا بند کئے اور ڈریسنگ پر رکھا موبائل اٹھا کر نمبر ملایا۔ آٹھ دس مرتبہ کی ناکام کوشش کے بعد اس نے جھنجھلا کر موبائل بستر پر پھینکا اور اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی اور باہر پھیلی تاریکی کو گھورنے لگی۔ 

میں بہت دنوں سے اس کی بے چینی اور پریشانی کو محسوس کر رہی تھی۔ مجھے امید تھی کہ وہ خود ہی مجھے اپنی پریشانی کے بارے میں بتائے گی۔ لیکن دوسری جانب ہنوز خاموشی کا قفل پڑا ہوا تھا۔ 

یہ ایک ہوسٹل کا کمرہ تھا۔ اس ہوسٹل میں دوسرے شہروں سے آئی ہوئیں نوکری پیشہ خواتین اور لڑکیاں رہائش پذیر تھیں جن کے پاس اس شہر میں رہائش کا بندو بست نہیں تھا۔ میں اس ہوسٹل میں کافی عرصے سے رہ رہی تھی۔ جب میں نوکری کرنے اس شہر میں آئی تو میں نے بہتر سمجھا کہ اکلاپے اور تنہائی سے بچنے کے لیے کرائے کے گھر کی بجائے ہوسٹل میں رہا جائے۔ نازنین کو یہاں آئے ابھی سات آٹھ ماہ ہی ہوئے تھے۔ ایک ہی کمرے میں مقیم ہونے کی وجہ سے عمروں کے تفاوت کے باوجود ہماری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ 

نازنین بہنوں میں سب سے بڑی اور طلاق یافتہ تھی۔ بھائی شادی شدہ تھے۔ طلاق کے بعد جب بھائی بھابیوں کی نظریں بدلیں تو اس نے اپنی ذمہ داری خود اٹھانے کی خاطر نوکری کر لی۔ والدین کچھ عرصہ اس کی شادی کے لیے کوشش کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ دوسری بہنوں کو بیاہنے کی جانب مبذول ہوگئی۔ چھوٹی بہنوں کی شادی میں اس نے ایک بیٹے کی طرح ذمہ داری کو نبھایا۔ پھر اسے اس شہر میں اچھی نوکری کی پیشکش ہوئی تو وہ یہاں آ گئی اور ہوسٹل میں رہائش اختیار کرلی۔ 

وہ اکثر و بیشتر اپنے دکھ درد میرے ساتھ بانٹتی رہتی تھی۔ اسے سب سے زیادہ شکایت اور تکلیف اپنے والدین کے رویے سے تھی جو اس کی طرف سے بالکل ہی لاپروا ہوگئے تھے۔ 

وہ اکثر کہتی،

" آپا! لڑکیوں کو کماؤ پوت بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اب دیکھو نا! میرے اپنے ماں باپ سے صرف روپے پیسے کا رشتہ ہی رہ گیا ہے۔ میں ان کو ماہانہ خرچ بھیجتی ہوں تو وہ بدلے میں میرا حال احوال دریافت کر لیتے ہیں۔ جس دن میں نے پیسے بھجنے بند کئے انہوں نے مجھے بھول جانا ہے'' 

یہ شکوہ اکثر ہی اس کی زبان پر ہوتا۔ 

میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتی،

"نا اڑیے! ماں باپ وقت اور حالات سے مجبور ہو جاتے ہیں ورنہ ناخن بھی کبھی ماس سے الگ ہوا ہے۔"

وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتے ہوئےکہتی،

"مجھے اپنی انگلی سے کاٹ کر تو پھینک دیا ہے۔ اور کس طرح الگ کرتے ہیں؟ نہ مجھے اپنے ساتھ رکھتے ہیں نہ میری شادی کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے سر سے جھانکتی چاندی نظر نہیں آتی۔ انہیں اتنا بھی احساس نہیں کہ میں تنہا ان سے اتنی دور ہوں۔ میرے بھی کچھ جذبات و احساسات ہوسکتے ہیں۔ کیا میں مردہ ہوں؟ جب اپنے بھائی بہنوں کو بال بچوں کے ساتھ شاداں و فرحاں دیکھتی ہو تو میرا جی بھی اپنا گھر بسانے کو چاہتا ہے۔ "

"نی اڑیے! سب کچھ نظر آتا ہے۔ تجھے کیا پتا وہ تیرے بیاہ کی فکر اور کوشش کرتے ہیں یا نہیں۔۔ تو تو یہاں بیٹھی ہے۔۔تجھے کیا پتا؟"

وہ ہنستے ہوئے طنزیہ کہتی،

"ہاں آپا! سچ کہتی ہو۔۔۔ مجھے کیا پتا؟ چھوٹی بہنیں بیاہ کر بال بچوں والی ہوگئیں۔ اور میرے لیے کوئی رشتہ ہی نہ ملا۔"

پھر روہانسی ہوکر کہتی،

 "آپا میرا بڑا جی چاہتا ہے کوئی تو ہو جسے اپنا کہہ سکوں۔ کوئی تو ہو جو مجھے ماں کہے۔" 

کبھی تنگ آکر کہتی،

"میرے پچھلوں پر میرے خرچ کی ذمہ داری ہوتی تو شاید میرے بیاہ کی فکر کرتے۔ کما کے خود بھی کھا رہی ہوں اور ان کو بھی کھلا رہی ہو تو انہیں میرا گھر بسانے کی کیا فکر ہوگی۔"

کبھی مجھ سے پوچھتی، 

"آپا سچ بتانا۔۔۔ کیا تمہارا دل نہیں کرتا تمہارا گھر بار ہو۔ تمہیں اپنا کہنے والا کوئی ہو۔ بچے ہوں؟" 

"کیوں نہیں دل کرتا۔۔۔۔ بہت کرتا ہے۔ پر قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔" 

میں نے افسردگی سے کہا۔ 

ایف ایس سی کیا ہی تھا کہ والدین ایک ایکسیڈنٹ میں مارے گئے۔چچا نے جیسے تیسے شادی کر دی لیکن دو سال بعد ہی بیوگی کی چادر اوڑھ کر واپس آگئی۔ عزیز رشتہ دار تو پہلے ہی آنکھیں پھیرے بیٹھے تھے سو زندگی کا پہیہ چلانے کے لیے خود ہی میدان میں آگئی۔ زندگی لشتم پشتم گزر رہی تھی لیکن کبھی کبھار دل چاہتا تھا کوئی تو ہو جو دکھ سکھ کے سفر کا ساتھی ہو۔ کوئی تو جو میرے ناز نخرے اٹھائے۔ جس کو میں اپنا کہہ سکوں۔ 

کبھی کہتی ،

"آپا میرا دل کرتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں دور نکل جاؤں۔ ساری زنجیریں، سارے حدود و قیود توڑ کر آزاد پنچھی کی طرح ہوا میں اڑتی پھروں۔ ساری پابندیاں عورتوں کا پی مقدر کیوں ہوتی ہیں؟"

وہ معصومیت سے سوال کرتی تو میں چپ سی ہو جاتی۔ وہ کہتی تو سچ ہی تھی۔ پتا نہیں اونچے شملے اور عزت و غیرت کا وزن اٹھانا عورت ہی کی ذمہ داری کیوں ٹھہرا؟"

پچھلے کچھ عرصے سے دھیرے دھیرے نازنین میں بہت سی تبدیلیاں آئی تھیں۔ میں چپ چاپ اس کے بدلتے انداز و تیور دیکھ رہی تھی۔ اب اس کے شکوے شکایت کا دفتر کبھی کبھار ہی کھلتا تھا اور اس میں وہ پہلے والی شدت بھی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ زیادہ وقت اس کا موبائل کے ساتھ گزرتا۔ ہونٹوں پر مسکان دھری رہنے لگی۔ کپڑوں لتوں کا خیال تو وہ پہلے بھی رکھتی تھی لیکن اب زیادہ رکھنے لگی تھی۔ اپنے آپ کو سجا سنوار کر رکھتی۔ مجھے کرید تو لگی تھی کہ ماجرا کیا ہے؟ لیکن میں چاہتی تھی کہ وہ خود ہی مجھے بتائے۔ لیکن وہ اپنے آپ میں مست و مگن تھی تو میں نے بھی پوچھنا مناسب نہ جانا۔ اب پچھلے کچھ دنوں سے اس کے چہرے پر ہویدا پریشانی و بے چینی بھی مجھ پر عیاں تھی۔ لیکن وہ تھی کہ چپ شاہ کا روزہ رکھے بیٹھی تھی۔

آج بھی میں بہت دیر سے چپ چاپ اس کی بے چینی و بےتابی کو تک رہی تھی۔ اگرچہ وہ کھڑکی میں ساکت کھڑی یک ٹک تاریکی کو گھورے جا رہی تھی۔ لیکن اس کے آنکھیں بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھ رہیں تھیں جیسے کسی کی کھوج میں ہوں۔ وہ گاہے بگاہے اپنی انگلیوں کو چٹخانے لگتی۔ پھر اچانک ہی واپس پلٹی اور بستر پر پڑا موبائل پکڑ کر کوئی نمبر ملایا۔ آگے سے جواب نہ ملا تو اس نے دوبارہ موبائل کو بستر پر پھینک دیا اور خود بے چینی سے کمرے کو ناپنے لگی۔ اب مجھ سے رہا نہیں گیا۔

"ناز! ادھر آ، میرے پاس بیٹھ ذرا۔"

وہ ٹھٹک کر انہیں قدموں پر تھم گئی۔ لمحہ بھر میری طرف دیکھتی رہی پھر میرے قریب آکر بیٹھ گئی۔ 

"جی آپا۔"

میں نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا، 

"شاباش ہے تجھ پر۔۔۔ آپا بھی کہتی ہے اور اپنے دکھ تکلیف میں ساجھے داری بھی نہیں کرتی۔"

"کہاں آپا۔۔۔ سب کچھ تو آپ کے سامنے ہے۔ میں نے کب آپ سے کچھ چھپایا؟"

وہ نگاہیں چراتے ہوئے بولی۔

"ہممم" 

میں نے ہنکارا بھرا۔

"تو یہ شودینو والا حلیہ بنا کر کیوں پھر رہی ہے؟ اپنی آپا کو وجہ نہیں بتائے گی؟" 

میری پیار کے دو بولوں کی دیر تھی کہ ٹپ ٹپ ٹپ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے برسات جاری ہوگئی۔ اس برسات کی جھڑی کے دوران وہ دھیمے دھیمے اپنی بپتا سنانے لگی۔ 

"کیا بتاؤں آپا! اپنی بیوقوفی اور کم عقلی کا ماجرا۔۔ اپنی اجڑی زندگی کو پیار و محبت کی حرارت سے روشن کرنے کی کوشش میں اپنے آپ کو جلا کر خاکستر کر بیٹھی ہوں۔ احمر سے دوستی سوشل میڈیا کے وساطت سے ہوئی تھی۔ وہ بھی اپنے گھر والوں سے دور نوکری کی خاطر اسی شہر میں تھا۔ گھر کا بڑا بیٹا تھا۔ اس کے پاس ذمہ داریوں کی ایک لمبی فہرست تھی۔ ہم دونوں ہی اکلاپے اور تنہائی کا شکار تھے، بہت تیزی سے ایک دوسرے کے نزدیک آتے گئے۔ بات سوشل میڈیا سے نکل کر روبرو ملاقات تک پہنچی۔ ایک دن ہم دونوں ایک ریسٹورنٹ میں ملے۔ ایک دوسرے کے لیے چاہتیں اور شدتیں مذید بڑھ گئیں۔ کبھی کبھار کا ملنا کم لگنے لگا تو ہم روزانہ لنچ ٹائم یا چھٹی کے بعد ملنے لگے۔ ہمارے درمیان فاصلے مذید سمٹ گئے۔ ہمیں ایک دوسرے کے بنا چین نہ آتا۔ بےتابیاں۔۔۔۔ بےچینیاں۔۔۔۔ روٹھنا۔۔۔۔ منانا۔۔۔ تکرار۔۔۔ انکار ۔۔۔ پیار۔۔۔ مرتے دم تک ساتھ نبھانے کے وعدے قسمیں۔۔۔ اس رشتے میں سب کچھ ہی تو تھا۔ احمر اپنے دوستوں کے ہمراہ فلیٹ میں رہتا تھا۔ ایک دن احمر مجھے اپنا فلیٹ دکھانے لے گیا۔ اس تنہائی نے ہمارے درمیان من و تو کا فرق بھی مٹا دیا اور پھر ہم اکثر ہی تنہائی میں ملنے لگے۔ پھر ۔۔۔ پھر ۔۔۔ ناجانے کیا ہوا؟ شاید مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ۔۔۔ کہ حاصل۔۔۔۔لاحاصل ہوگیا۔ بہن کی شادی کا کہہ کر گیا تو واپس ہی نہ پلٹا۔میں نے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن نمبر بند جا رہا ہے۔ اس کے آفس پتا کیا تو انہوں نے کہا وہ جاب چھوڑ چکا ہے۔ پتا نہیں آپا اس کی مہر و وفا، پیار و خلوص کیا ہوا؟ پتا نہیں شدت عشق کا بیان صرف بستر تک لے جانے کے لیے تھا؟ شاید ہوس نے محبت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور۔۔۔ اور۔۔۔ " 

وہ سسکی،

"آپا میں لٹ گئی۔ میں اپنی مرضی سے لٹ گئی۔"

میں سر تھامے اس کا قصہ محبت سن رہی تھی اس کی بات پر بولی، 

"نی اڑیے تو نے تو بے عقلوں کو مات دے دی۔ تو چپ چپیتے سوچے سمجھے بغیر بربادی کے رستے پر نکل گئی۔ تو تو اتنی سمجھدار تھی۔۔۔ یہ تو نے کیا کر دیا؟"

میں تاسف سے بولی۔ 

"کیا تجھے زمانے کے چلن کا علم نہیں تھا؟ محبت کے دو بول اتنے طاقتور تھے کہ تجھے اندھا کردیا اور تو ریت رواج کی ہر دیوار پھلانگ گئی۔ یا اللہ یہ ہم عورتوں کے اندر اپنا گھروندا بنانے کی اتنی خواہش کیوں رکھی ہے؟"

"وہ تو اتنا پیار کرنے والا اور مخلص تھا آپا۔۔۔ نہ جانے کیا ہوا ہوگا؟"

"شاباش! جو چھوڑ کر بھاگ گیا وہ مخلص تھا اور تو جو اس کی جان کو رو رہی۔۔۔ تو کون ہے؟" 

مجھے اس کی بات پر غصہ آگیا،

"اڑی او عقل سے پیدل۔۔ وہ تجھے لوٹ کر چلا گیا اور تو ابھی بھی اسی کا دم بھر رہی ہے۔ تجھے لاج نہ آئی اپنے ماں باپ کی عزت رولتے ہوئے؟ اللہ کی قائم کردہ حدود کو پامال کرتے ہوئےخوف نہ آیا؟ شرم کر۔"

وہ میرے ساتھ بیٹھی روتی بلکتی رہی۔ میں چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔ آخر مجھے اس پر ترس آگیا 

"بس کر ناز! مت رو۔۔۔ اپنے گناہ کہ معافی مانگ۔ بھلا بھونرے بھی کسی کے ہوئے ہیں۔ ان کا تو کام ہی رس چوس کر اڑ جانا ہے۔" 

وہ سسکتے ہوئے میرے گلے لگ گئی۔ 

"حوصلہ کر" 

میں نے اسے تسلی دی۔

شب و روز اپنا سفر طے کرنے لگے۔ زندگی گزرنے کا نام ہے۔ ہنس کر بھی تو کر بھی۔ نازنین جیسے اداسی کے قلعہ میں قید ہوگئی۔ ہنسانا بولنا ختم۔ جینے کو دو چار لقمے کھا لیے۔ ہر چیز میں اس کی دلچسپی ختم ہوگئی تھی۔ میں اسے زندگی کی رعنائیوں اور دلچسپیوں کی طرف متوجہ کرتی لیکن بے سود۔

ایک دن اس کے گھر سے اس کا بلاوا آیا کہ ہم نے تمہاری شادی طے کر دی ہے۔ واپس لوٹ آؤ۔ وہ چپ چاپ واپس لوٹ گئی۔ میں تاسف سے سوچتی رہی نا جانے اس لڑکی کا کیا بنے گا۔

اگلے دن اس کا فون آگیا۔ اس کی آواز میں چڑیوں سی چہکار تھی۔ 

"آپا پوچھیں گی نہیں کہ میری شادی کس کے ساتھ ہو رہی ہے؟" 

اس نے کھلکلھاتے ہوئے پوچھا۔

"ہاں ہاں بتاؤ۔"

"احمر سے"

اس نے بتایا۔ 

"سچ؟"

"ہاں پیاری آپا۔۔ انہوں نے اپنے تمام وعدے قسمیں پورے کیے۔ اپنے والدین کے ساتھ میرا ہاتھ مانگنے آگئے۔" 

"نی اڑیے اپنے شوہر کی قدر کرنا۔ اس کلجگ میں کون اپنا وعدہ نبھاتا ہے۔ اپنا عہد وفاء کرنے والا مرد کا بچہ ہے ورنہ خالی پھوک کون گھر لے جاتا ہے۔"


(اپوا ڈائجسٹ میں شائع شدہ)