نیرنگی حیات

پھانسی-کا-پھندا-نیرنگی-حیات-hanging-rope



رات سرد اور تاریک تھی۔ سردی اس کے رگ و پے میں پھیل رہی تھی۔ اس نے سردی کے احساس کو کم کرنے کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں کو رگڑا۔ وہ کرسی پر بیٹھا تھا اور اس کے سامنے میز تھی۔ وہ بظاہر پرسکون تھا لیکن اس کے اندر اضطراب ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

 اس کے لیے یہ کوئی نئی کیفیت نہیں تھی۔ جب بھی اسے بلایا جاتا وہ ایسے ہی محسوسات کا شکار ہو جاتا تھا۔ 

اب وہ منتظر تھا۔۔۔ 

اپنے فرض کی بجا آوری کا۔۔۔ 

اس کی بےچین نگاہیں کبھی راہداری کی جانب اٹھتی اور کبھی گھڑی کی جانب۔۔۔۔۔ 

وہ انتظار کرتے ہوئے خیالات کی بھول بھلیوں میں کھو گیا۔۔۔ یہ دنیا کتنی بے ثبات اور ناپائدار ہے۔۔۔ لیکن ہم اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ہماری ابدی نیند کا وقت آن پہنچتا ہے۔۔۔ 

موت۔۔۔ جو زندگی کی اٹل حقیقت ہے۔۔۔ 

چاہے کسی بھی طریقے سے آئے۔۔۔ اس سے مفر ممکن نہیں۔۔۔  

لیکن ہم اس سے بے خبر زندگی کی رگوں سے خوشیاں کشید کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے مال و زر کے ڈھیر اکھٹے کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

جائز۔۔۔ 

ناجائز۔۔۔ کی پروا کئے بغیر۔۔۔ 

ہمارا مطمع نظر صرف اور صرف اپنے لیے دولت و راحت کا حصول ہوتا ہے۔۔۔ 

چاہے اس کے لیے  کسی کو قتل کرنا پڑے یا اس کو عمر بھر کی جمع پونجی محروم کرنا پڑے۔ کسی کے سر سے ردا نوچنی پڑے یا سر بازار کسی کو رسوا کرنا پڑے۔۔۔ 

اس کی نگاہیں ایک مرتبہ پھر دیوار گیر گھڑی کی جانب اٹھی۔۔۔ 

وقت اپنے مخصوص رفتار سے آگے کی جانب گامزن تھا لیکن اسے گھڑی کی سوئیاں ساکت محسوس ہو رہی تھیں۔  اس نے گھڑی کی جانب سے نگاہیں ہٹائیں اور سوچنے لگا۔۔۔ 

لیکن جب قدرت کا قانون انصاف حرکت میں آتا ہے تو یہ زمانے کے فرعون و چنگیز خان لمحہ بھر میں ایک کیچوے کی مانند بےضرر بن جاتے ہیں۔ 

آہ۔۔۔ اس نے گہری سانس لی۔

طاقت و اقتدار کا نشہ بہت ظالم ہے۔ جب سر چڑھتا ہے تو انسان شیطان کو مات دے دیتا ہے اور جب اترتا ہے تو اس کا حشر کسی خارش زدہ کتے کی مانند کر دیتا ہے۔ 

دور کہیں سے کبریائی کی صدا بلند ہوئی۔۔۔ 

اس کے ساتھ ہی راہداری سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ چونکا اور اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے تیار ہوگیا۔

 معاشرے کا منافق چہرہ دیکھنے کے لیے پڑھیں افسانہ »»» چہرہ در چہرہ