زمزمہ ادراک
![]() |
| created by SA |
میں نِر گُنیا گن نہیں جانی
ایک دھنی کے ہاتھ بِکانی
چاہے ہنسائے ، چاہے رُلائے
چاہے وہ مجھے چِت سے بھلائے
کوئی اپنی خوبصورت درد بھری آواز میں ترنم سے گا رہا تھا۔
دلکش آواز نے پل بھر میں اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی تھی اور بول۔۔۔
کانوں میں پڑنے والے بولوں نے تو دل کی دنیا کو تہہ و بالا کر ڈالا اور سیدھے دل کی اتھاہ گہرائی میں جا بیٹھے۔
"یہ شاعر بھی ناجانے کیسے دل میں چھپے جذبات کو لفظوں کے روپ میں ڈھال لیتے ہیں۔"
اس نے دل ہی دل میں سوچا اور نگاہ اٹھا کر آواز کے ماخذ کی جانب دیکھا۔ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس، بے ترتیبی سے بڑھی داڑھی، کندھوں تک آئے ہوئے بال، ہاتھوں پیروں پر میل کی تہیں۔۔۔ نہایت جذب کے عالم میں آنکھیں بند کئے گا رہا تھا۔ چہرے مہرے سے مجذوب یا مجنون دکھائی دے رہا تھا۔
"لیکن ہوش و خرد سے بیگانہ اور یہ کلام۔۔۔۔۔"
اس کی جستجو بھری نظروں نے اس کے سراپے کا احاطہ کیا۔
بس کا پہیہ پنکچر ہونے کی وجہ سے انہیں رستے میں رکنا پڑا۔ بس کی سواریاں باہر نکل کر ادھر ادھر پھیل گئیں۔ سڑک کے کنارے ایک ڈھابہ نما ہوٹل نظر آیا تو کچھ سواریاں اس کی جانب چل دیں۔ وہ اور اس کی بہن بھی چائے پینے کی غرض سے ڈھابے پر پہنچ گئے۔ چائے کا انتظار کرتے ہوئے یہ پرسوز آواز کانوں کے رستے دل میں اترنے لگی۔ اک سماں سا بندھ گیا۔ آس پاس کے سبھی افراد خاموشی سے سر دھن رہے تھے۔ وہ چپ ہوا تو جیسے لوگ نیند سے بیدار ہوگئے ہوں۔
"واہ واہ۔۔۔ کیا آواز ہے۔"
کچھ نے کہا " کیا خوبصورت کلام ہے۔"
وہ سر جھکائے اپنی آنکھیں بند کئے گم صُم بیٹھا رہا۔ لوگوں کی داد و تحسین کا شور بڑھا تو اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔
اففف۔۔۔ تاریک راتوں سی سیاہ گہری آنکھیں۔۔۔ ان میں چودھویں کے چاند سی ضیاء تھی۔۔۔ یک دم اس کا جی گھبرانے لگا اور اس نے اپنی نگاہ پرے ہٹا لی۔ لیکن جانے ان میں کیسی کشش تھی کہ لمحہ بھر بعد ہی نظر بےاختیار اس کی جانب اٹھ گئی۔
وہ لوگوں کی باتوں پر مسکرا دیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس کا رواں رواں مسکرا اٹھا ہو۔ اس نے سر ہلا کر لوگوں سے داد وصول کی اور بےتکلفی سے اپنے نزدیک بیٹھے ہوئے آدمی سے کہنے لگا،
"چائے پلاؤ گے؟"
"ہاں! ہاں کیوں نہیں۔"
آدمی نے جواب دیا اور ڈھابے والے کو چائے دینے کو کہا۔
پھر وہ اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا،
"گہری چوٹ کھائے ہوئے لگتے ہو۔"
وہ جواب میں ہلکا سا مسکرا دیا۔
"ہنہہہ۔۔ عاشق نامراد۔ تبھی یہ حالت ہوگئی ہے۔"
اس نے ناک چڑھاتے ہوئے ترحم سے سوچا اور اپنی توجہ چائے کی جانب مبذول کرنے کی کوشش کی۔
لیکن توبہ ہے۔۔۔ اس کا پورا وجود کان بن کر اس کی آواز کی جانب متوجہ تھا۔۔۔
"یہ عشق کیا ہے؟"
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس آدمی کی زبان پر پھر خارش ہوئی۔
وہ مسکرایا اور کہنے لگا،
"کیوں اس کے پھیر میں پھنستے ہوں؟ جل کر خاک ہو جاؤ گے "
"خاک ہی تو ہیں۔۔ اور کیا خاک ہونا۔۔ تم بتاؤ تو سہی۔"
اس آدمی نے مسکراتے ہوئے اصرار کیا۔
اس نے غور سے آدمی کی شکل دیکھی اور مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کرکے کرسی سے ٹیک لگا کر کہنے لگا،
"عشق دیوانگی بھی ہے فرزانگی بھی۔ اشک بھی ہے مسکراہٹ بھی، درد بھی ہےدوا بھی۔ اول بھی عشق ہے اور آخر بھی۔"
مجنون نے جذب کے عالم میں کہا۔
"عشق میں دوئی نہیں، یکتائی ہی یکتائی ہے۔ عشق موحد ہے۔فنا کر دیتا ہے۔ راکھ کر دیتا۔"
پھر آنکھیں کھولیں اور آدمی کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا،
"عشق ایسی آگ ہے جو اپنے محبوب کے سوا سب کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔۔۔تو بس جل جاؤ۔۔۔ تن من دھن کچھ باقی نہیں رہے سوائے معشوق کے۔"
اس کی آنکھیں خلا میں جامد و ساکت ایک جگہ مرکوز تھیں اور اس کے الفاظ زمزمہ ادارک کا لمحہ بن کر اس کے دل کی بنجر کھیتی میں اپنے سروں سے آبیاری کرنے لگے۔
وہ جو سال بھر سے اپنے محبوب شوہر سے لڑ جھگڑ کر میکے بیٹھی ہوئی تھی، راکھ کی مانند ہوا میں بکھرنے لگی۔احمر نے بھی تو میری محبت کی خاطر سب کچھ تیاگ دیا تھا۔ اپنے والدین کو، پر آسائش زندگی کو۔۔۔ اسے سہولیات اور آسائشات دینے کی خاطر دن رات محنت کرتا رہا۔۔۔ اور میں۔۔۔ دگرگوں حالات پر اس کو مورد الزام ٹھہراتی رہی۔۔۔ اسے کوستی رہی اور ایک دن لڑ جھگڑ کر میکے لوٹ آئی۔۔۔
میری آنکھیں نمناک ہو گئیں۔۔۔
" تمہیں علم ہے ۔۔۔ عاشق اپنے محبوب کی نظر کرم کی خاطر ہاتھ میں کشکول تھامے در در بھٹکتا رہتا ہے، اس کی نگاہ لطف کے لیے ریت کے ذروں کی مانند بکھر جاتا ہے، یہ خاکی اپنے آپ کو خاک نشیں کر لیتا ہے۔"
میں ساکت بیٹھی اس کی آواز سن رہی تھی۔
آہ! احمر نے بھی اس کی تمام تر بے رخی کے باوجود التفات کی حد کر دی تھی۔وہ اس سے جتنا لڑتی وہ اپنے پیار کی انتہا کر دیتا۔۔۔ اس کے کوسنے طعنے تشنع ہنس کر ٹال دیتا۔۔۔ لوٹتے سمے بھی اس نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی۔۔۔ لیکن اس کا مصمم ارادہ دیکھ کر خاموش ہوگیا۔۔۔ لیکن وہ اس کے دروازے سے نکلنے تک اپنی بھیگی نگاہوں میں التجا لیے اس کی جانب تکتا رہا۔۔۔
مجنون گردوپیش سے بے خبر کہے جا رہا تھا،
"صرف وہ ہی وہ ہے۔۔۔ بھیتر باہر ۔۔۔ اسی کا عکس ہے۔۔۔ مکاں لامکاں ۔۔ اسی کی حکمرانی ہے۔۔۔ سر اٹھانے کی طاقت نہیں۔۔۔ سرتابی کی مجال نہیں۔۔۔ وہ ہنسائے یا رلائے۔۔۔ یاد رکھے یا بھول جائے۔۔۔ راضی برضا۔۔۔ اللہ ہوووووو۔۔۔۔ حق اللہ ہوووو۔"
اس مجنون نے نعرہ مستانہ بلند کیا اور اپنی خوبصورت آواز میں گنگنانے لگا۔
میں نِر گُنیا گن نہیں جانی
ایک دھنی کے ہاتھ بِکانی
چاہے ہنسائے ، چاہے رُلائے
چاہے وہ مجھے چِت سے بھلائے
آہ! احمر۔۔۔ اس کی بند ہونٹوں سےاس کا نام سسکی کی مانند نکلا اور آنکھیں نیر بہانے لگیں۔
پڑھیں کہانی "لاک ڈاؤن"

0 تبصرے